100 Saal Tak Khidmat

100 سال تک بغیر معاوضے کے خدمت


بخاری (4119) اور مسلم میں حضرت حذیفہ بن یمان کی روایت ہے، فرماتے ہیں: نجران کا وفد نبی کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ، ہمارے پاس ایک ایمان دار شخص کو بھیج دیں!
آپ نے جواب دیا: میں ضرور تمہارے پاس ایک ایمان دار شخص کو بھیجوں گا، بہت ہی ایمان دار بہت ہی ایمان دار
ہر کوئی اس کے لیے سراپا شوق اور سراپا انتظار تھا، چنانچہ نبی نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کو وہاں بھیجنے کا فیصلہ سنا دیا !
اس لائن کے نیچے ہزار لکیریں کھینچ دو: ‘ہر کوئی اس کے لیے سراپا شوق اور سراپا انتظار تھا لوگوں کو سب سے زیادہ ضرورت عزت افزائی اور قدردانی کی ہوتی ہے!
انسان بغیر کسی معاوضہ کے سو سال تک اپنی خدمات دے سکتا ہے!
لیکن عزت افزائی اور قدردانی کے بغیر اس کے لیے ایک دن بھی کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے! اس لیے کوشش کرو کہ جب بھی کوئی تمہارے ساتھ بھلائی کرے تو اس کا بھر پور شکر یہ ادا کرو!
دستر خوان پر بچوں کی موجودگی میں کھانے کی تعریف کر دینے سے بیوی کی کھانا پکانے کی گھنٹوں کی تکان ذرا سے میں کافور ہو جاتی ہے اسی طرح شوہر کے آفس سے آنے پر تمہارے شکریے اور قدردانی کے دو میٹھے بول اس کی تمام تر تکان دور کر دیتے ہیں!
انسانی جذبوں کو مارنے والی سب سے خطر ناک چیز ناقدری اور احسان فراموشی ہے! دوسروں کی قدردانی اور احسان مندی سے خود ہمارا ہی فائدہ ہوتا ہے! یہ رویہ دوسروں کو آمادہ کرتا ہے کہ وہ اپنی کرم فرمائی آگے بھی جاری رکھیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *