شوہر سے جھگڑا (Ant e Aizan Sahabiyah 12)
انت ایضا صحابیہ قسط 12
مترجم:علامہ سعید احمد اشرفی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میاں بیوی کا جھگڑا!
تم بھی تو ایک صحابیہ ہو! اور تم چاہتی ہو کہ اپنی صحابیات بہنوں کے گھروں میں جاؤ تاکہ کچھ سیکھ سکو، کیونکہ گھر ایک جیسے ہوتے ہیں، اور لوگ ہر دور میں لوگ ہی رہتے ہیں۔
اور آج تم اپنے نبی اور حبیب ﷺ کی سنگت میں ہو، جو اپنی بیٹی فاطمہ (رضی اللہ عنہا) سے ملنے آئے ہیں
نبی کریم ﷺ نے حضرت علی بن ابی طالب کو گھر میں نہ پایا، تو فاطمہ (رضی اللہ عنہا) سے ان کے بارے میں پوچھا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے درمیان میاں بیوی والا کوئی جھگڑا ہو گیا تھا، جس پر وہ گھر سے چلے گئے اور وہ نہیں جانتیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں
تو نبی کریم ﷺ انہیں چھوڑ کر باہر تشریف لے گئے، اور ایک شخص سے فرمایا کہ وہ جا کر علی کو تلاش کرے۔
اس نے واپس آکر بتایا کہ وہ مسجد میں سو رہے ہیں، آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے تو دیکھا کہ وہ زمین پر رخسار رکھے سو رہے ہیں، اور ان کے رخسار پر مٹی لگ گئی ہے۔
آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: اٹھو اے ابو تراب! اور نبی کریم ﷺ اپنے دستِ مبارک سے ان کے چہرے سے مٹی صاف کرنے لگے
اے صحابیہ! شاید تم نے غور کیا ہو کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی بیٹی سے اس جھگڑے کی وجہ نہیں پوچھی، جو ان کے اور ان کے شوہر کے درمیان ہوا تھا، اور نہ ہی ان سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ پورا واقعہ سنائیں۔
نہ یہ پوچھا کہ انہوں نے علی سے کیا کہا، اور نہ یہ کہ علی نے ان سے کیا کہا
آپ ﷺ تمہیں سکھانا چاہتے تھے کہ گھروں کے کچھ راز ہوتے ہیں! اور آپ ﷺ نے اپنی بیٹی کا راز محفوظ رکھنا پسند فرمایا۔
پس اگر تمہارے اور تمہارے شوہر کے درمیان کوئی جھگڑا ہو جائے، تو اس جھگڑے کا چرچا کرنے میں جلدی نہ کرو، چاہے وہ تمہارے اپنے گھر والوں کے سامنے ہی کیوں نہ ہو
جہاں تک ہو سکے معاملہ اپنے اور اس کے درمیان ہی رکھو، کیونکہ آخرکار تم دونوں کی صلح ہو ہی جائے گی، لہٰذا کوئی ضرورت نہیں کہ تمہارے گھر والوں کی نظر میں تمہارے شوہر کا تاثر خراب ہو۔
انہیں اسے چاہنے دو، اور اسے ان سے محبت کرنے دو۔ انہیں یہ احساس نہ دلاؤ کہ تم کسی میدانِ جنگ میں رہ رہی ہو، کیونکہ تم ان سے وہ خوشگوار لمحات تو چھپا لیتی ہو جو تم نے اس کے ساتھ گزارے ہوتے ہیں، جبکہ لڑائی کے لمحات کو پھیلا دیتی ہو
یاد رکھو، جھگڑا جب تک گھر کی چار دیواری میں بند رہتا ہے، چھوٹا ہی رہتا ہے، لیکن جب وہ دروازے سے باہر نکل جاتا ہے اور لوگوں کی زبانوں پر آ جاتا ہے، تو وہ برف کے اس گولے کی طرح بن جاتا ہے جو جتنا لڑھکتا ہے، اتنا ہی بڑا ہوتا جاتا ہے
اے صحابیہ! میاں بیوی کے جھگڑے ہر گھر میں ہوتے ہیں، اور یہ بالکل ایک فطری بات ہے! اہم بات یہ ہے کہ جب ایسا ہو تو اس میں عزتِ نفس مجروح نہ ہو، اور نہ ہی حرمتوں کو پامال کیا جائے
اور نہ ہی دشمنی میں حد سے گزرا جائے! تاکہ جب ہم صلح کریں تو ہم میں سے ہر ایک اس قابل رہے کہ دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ سکے
زندگی کے مسائل تو حل ہو جاتے ہیں، لیکن دل اور عزتِ نفس کے زخم بھرنا بہت مشکل ہوتا ہے
اے صحابیہ! شرفاء کے جھگڑے سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز نہیں۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ناراض ہوئیں تو حضرت علی انہیں چھوڑ کر باہر چلے گئے تاکہ وہ پرسکون ہو جائیں۔
اپنے شوہر کے سامنے مرغے کی طرح پر پھیلا کر نہ کھڑی ہو جایا کرو، کہ ایک بات کا جواب دس باتوں سے دینے لگو۔ اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ پرسکون ہو جائے۔
مسئلے کے وقت پلٹ کر جواب دینا اسے مزید بگاڑ دیتا ہے، اور اس لمحے جو کچھ کہا جاتا ہے، وہ خود اس مسئلے سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہو سکتا ہے
کچھ دیر کے لیے اپنے کمرے میں چلی جاؤ، وضو کرو، دو رکعت نفل پڑھو اور شیطان کی آگ بجھا دو۔
یقیناً ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے، پھر وہ اپنے لشکر بھیجتا ہے، ان میں اس کے سب سے زیادہ قریب وہ ہوتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ برپا کرتا ہے
ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے: میں نے یہ اور یہ کام کیا، تو وہ اسے کہتا ہے: تو نے کچھ نہیں کیا۔ پھر ان میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے
میں نے اسے نہیں چھوڑا یہاں تک کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دی، تب ابلیس اسے اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے: ہاں! تو نے اصل کام کیا ہے
شیطان چاہتا ہے کہ گھروں میں جھگڑوں کی آگ بھڑکے، کیونکہ جن گھروں سے اتفاق اور رحمت چھین لی جاتی ہے، وہ ہر قسم کے گناہوں اور برائیوں کے لیے ایک زرخیز ماحول بن جاتے ہیں۔ اس لیے شیطان پر دروازہ بند کر دو
اے صحابیہ! تمہارے اور تمہارے شوہر کے درمیان چاہے کچھ بھی ہو جائے، اپنا گھر مت چھوڑنا۔
تمہارا گھر تمہارا تخت ہے، اور ملکہ اپنا تخت نہیں چھوڑتی! تمہارا گھر تمہارا قلعہ ہے، لہٰذا خود کو بے آسرا نہ کرو۔
تمہاری بیٹیاں ہیں جو تمہیں دیکھ رہی ہیں، ان کے ذہنوں میں یہ بات نہ بٹھاؤ کہ گھر چھوڑ دینا ہی واحد حل ہے۔
اپنے بچوں کے ذہنوں میں ان کے باپ کا تاثر خراب نہ کرو، جذبات کی رو میں بہہ کر اور بے صبری کے ایک لمحے میں اسے ایک درندہ مت بناؤ، اور وہ بھی ایسی بات کے لیے جو ہر گھر میں ہوتی ہے
کیا تم سمجھتی ہو کہ جن گھروں سے کوئی آواز نہیں آتی وہاں کوئی مسائل نہیں ہوتے؟ تم غلطی پر ہو! ہر گھر میں مسائل اور اختلافات ہوتے ہیں، لیکن لوگ اپنے زخموں کو سہہ جاتے ہیں تاکہ زندگی کا سفر چلتا رہے
اے صحابیہ! حضرت ابوبکر صدیق اپنی بیٹی عائشہ سے ملنے آئے،
تو نبی کریم ﷺ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، تو دیکھا کہ حضرت عائشہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی آواز بلند کر رہی ہیں
آپ (ابوبکر) نے ان سے فرمایا: اے فلانہ کی بیٹی! تم نبی کریم ﷺ کے سامنے اپنی آواز اونچی کرتی ہو! اور آپ انہیں مارنے کے لیے آگے بڑھے
تو نبی کریم ﷺ ان کے اور عائشہ کے درمیان آ گئے۔ پھر ابوبکر (رضی اللہ عنہ) باہر چلے گئے تو نبی کریم ﷺ ان (عائشہ) سے فرمانے لگے: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ میں تمہارے اور اس شخص کے درمیان آ گیا تھا؟
پھر حضرت ابوبکر نے ایک بار پھر اجازت طلب کی تو ان دونوں کے ہنسنے کی آواز سنی، اس پر آپ نے فرمایا: مجھے بھی اپنی صلح میں شریک کر لو جس طرح اپنی جنگ میں شریک کیا تھا۔
اے صحابیہ! تم ایمان کے جس درجے پر بھی پہنچ جاؤ، عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ایمان کو نہیں پا سکتیں، اور تمہارا شوہر کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، نبی کریم ﷺ کی نیکی کا کیا مقابلہ! اور دیکھو، ان کے درمیان بھی میاں بیوی کا جھگڑا ہو گیا۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اختلاف کیوں ہوا، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس اختلاف میں کیسا رویہ اپناتے ہیں؟
یہ سچ ہے کہ مرد گھر کا سربراہ ہوتا ہے اور اس پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، لیکن گھر کا سکون اور اس کی خاموشی شوہر کی نہیں بلکہ بیوی کی ذمہ داری ہے۔
حیران نہ ہو، اور نہ ہی مجھ پر مردوں کی طرفداری کا الزام لگاؤ۔ تم میری بیوی، میری بیٹی، میری ماں، میری بہن، میری پھوپھی اور میری خالہ ہو۔
تم میری عزت اور میرا وقار ہو، اور میں تمہاری صف میں ہوں اور تمہارے ساتھ ہوں۔ اسی لیے میں تمہیں حقیقت بتا رہا ہوں اور اسے تمہاری آنکھوں کے سامنے رکھ رہا ہوں،
اور اپنے رب کا فرمان پڑھو: ﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا﴾
اور اپنے رب کا یہ فرمان بھی پڑھو: ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا﴾
سکون، اطمینان اور امن فراہم کرنا بیوی کی ذمہ داری ہے۔
یہ سچ ہے کہ شوہر ایک اہم اور اثر انداز ہونے والا عنصر ہے، وہ مددگار بھی ثابت ہو سکتا ہے اور رکاوٹ بھی، لیکن سکون فراہم کرنا اس کی ذمہ داری سے پہلے تمہاری ذمہ داری ہے۔
اور جب تم یہ ذمہ داری احسن طریقے سے نبھاؤ گی، تو وہ تمہاری انگلی کی انگوٹھی کی طرح (تمہارے تابع) ہو جائے گا۔


Mashaallah ❤️
Great step taken to spread positive quotes between relationship
thank you so much.