ایک ماں کی بد دعا (Ant e Aizan Sahabiyah 13)
انت ایضا صحابیہ (13)
مترجم:علامہ سعید احمد اشرفی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ماں کی بددعا!
تو بھی ایک صحابیہ ہے!
گزشتہ امتوں کی باتیں اور خبریں تجھے تسلی دیتی ہیں، تو پھر کیسا ہو اگر یہ باتیں اور خبریں تیرے محبوب نبی ﷺ کی زبانی ہوں؟
اور اب تو اس خوبصورتی اور جلالت کے ساتھ ایک ملاقات کے موڑ پر ہے۔
نبی کریم ﷺ تجھ سے فرماتے ہیں:
جرایج ایک عابد و زاہد انسان تھا، اس نے ایک عبادت گاہ بنا رکھی تھی جس میں وہ رہتا تھا۔
ایک دن اس کی ماں اس کے پاس آئی جبکہ وہ نماز پڑھ رہا تھا…
اس نے پکارا: “اے جریج!”
اس نے دل میں کہا: “اے میرے رب! میری ماں اور میری نماز!” (یعنی کسے ترجیح دوں؟)
پھر وہ اپنی نماز ہی میں مشغول رہا، اور اس کی ماں واپس لوٹ گئی۔
اگلے دن وہ پھر آئی جبکہ وہ نماز ہی پڑھ رہا تھا،
اس نے پکارا: “اے جریج!”
اس نے کہا: “اے میرے رب! میری ماں اور میری نماز!”
اور وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہا۔
اس پر اس کی ماں نے (ناراض ہو کر) کہا: “اے اللہ! اسے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک یہ بدکار عورتوں کے چہرے نہ دیکھ لے!”
بنو اسرائیل میں جریج اور اس کی عبادت کا تذکرہ ہونے لگا۔
وہاں ایک بدکار عورت تھی جس کے حسن و جمال کی مثالیں دی جاتی تھیں۔
اس نے کہا: “اگر تم چاہو تو میں اسے فتنے میں مبتلا کر سکتی ہوں!”
وہ اس کے سامنے آئی لیکن جریج نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔
پھر وہ ایک چرواہے کے پاس گئی جو جریج کی عبادت گاہ کے قریب ٹھہرتا تھا، اور اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیا۔
چنانچہ اس نے اس کے ساتھ زنا کیا اور وہ حاملہ ہو گئی۔
جب اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اس نے کہا: “یہ جریج کا بچہ ہے!”
لوگ جریج کے پاس آئے، اسے نیچے اتارا، اس کی عبادت گاہ کو ڈھا دیا اور اسے مارنے پیٹنے لگے۔
اس نے پوچھا: “تمہیں کیا ہوا ہے؟”
انہوں نے کہا: “تو نے اس بدکار عورت کے ساتھ زنا کیا ہے اور اس سے یہ بچہ پیدا ہوا ہے!”
اس نے کہا: “وہ بچہ کہاں ہے؟”
وہ بچے کو لے آئے۔
جریج نے کہا: “مجھے چھوڑو تاکہ میں نماز پڑھ لوں…”
جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو اس بچے کے پاس آیا، اس کے پیٹ میں کچوکا لگایا،
اور پوچھا: “اے بچے! تیرا باپ کون ہے؟”
بچے نے جواب دیا: “فلان چرواہا!”
یہ دیکھ کر لوگ جریج کی طرف بڑھے، اسے چومنے لگے اور اس سے برکت مس کرنے لگے۔
انہوں نے کہا: “ہم تیرے لیے سونے کا عبادت خانہ بنا دیتے ہیں!”
جریج نے کہا: “نہیں۔ اسے ویسا ہی مٹی کا بنا دو جیسا یہ پہلے تھا।” اور انہوں نے ویسا ہی کر دیا۔
اے صحابیہ!
حسن و جمال ایک نعمت ہے جس کی حفاظت کی جاتی ہے،
پس اپنے حسن اور اپنی انفرادیت کو گمراہی کا ہتھیار نہ بنا!
یہ بدکار عورتوں کا کام ہے، پاک دامن عورتوں کا نہیں!
خوبصورتی اور ناز و ادا مردوں کے دلوں پر اثر کرتے ہیں،
لہذا پہلے اپنی حفاظت کر اور پھر دوسرے لوگوں کی!
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات سے فرمایا—جو تجھ سے کہیں زیادہ پاکیزہ تھیں:
“اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں جیسی نہیں ہو، اگر تم پرہیزگار رہنا چاہتی ہو تو بات میں لچک نہ پیدا کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہو وہ کوئی برا ارادہ کرے، اور بات شائستہ و معروف طریقے سے کرو۔”
جب تو نا مناسب جگہ پر اپنے ناز و انداز ظاہر کرے گی،
اور ان لوگوں کے سامنے اپنی زیبائش کا مظاہرہ کرے گی جن کے لیے یہ جائز نہیں،
تو تو لالچ کا نشانہ بنے گی، اور لوگ تجھے آسان شکار سمجھیں گے!
بازار میں دکاندار کے سامنے مضبوط اور باوقار رہ،
تیری عزت چند درہموں سے کہیں زیادہ قیمتی ہے جو وہ تیرے لیے کم کر دیتا ہے!
کام کی جگہ پر اپنے ساتھیوں کے سامنے سنجیدگی اور وقار برقرار رکھ،
تیری عزّت و آبرو کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی!
گناہ کا دروازہ مت کھول، نہ ہی اسے ذرا سا بھی کھلا چھوڑ،
کہ پھر تو شکایت کرتی پھرے کہ کوئی اندر کیسے گھس آیا!
اسباب کا علاج کر لینا نتائج کے علاج سے کہیں زیادہ آسان ہے!
ایسی نوکریاں جہنم میں جائیں،
اگر ان کی قیمت تیری عزت و شرف پر حرف لاتی ہو!
جو رزق تیرے مقدر میں ہے وہ پوری دنیا کے خلاف بھی تجھ تک پہنچ کر رہے گا،
اور رزق اللہ کے پاس ہے، لوگوں کے پاس نہیں!
اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس کی نافرمانی سے حاصل نہیں کیا جا سکتا!
اے صحابیہ!
خبردار! اپنی اولاد کو کبھی بددعا نہ دینا،
ہو سکتا ہے تیری بددعا قبولیت کی گھڑی میں ہو اور تو انہیں تباہ کر بیٹھے!
والدین کی دعا بہت اثر رکھتی ہے!
جریج راہب کو جو کچھ پیش آیا وہ اس کی ماں کی بددعا کی وجہ سے تھا،
اس کی ماں نے اس کے لیے بدکار عورتوں کے چہرے دیکھنے کی بددعا کی تھی،
اور وہ دعا قبولیت کی گھڑی میں موافق آ گئی، چنانچہ اس کے ساتھ وہی ہوا جو تو نے جانا!
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جس کا ہاتھ مفلوج تھا،
انہوں نے پوچھا: “تیرے ہاتھ کو کیا ہوا؟”
اس نے کہا: “میرے باپ نے زمانہ جاہلیت میں میرے لیے بددعا کی تھی کہ ‘تیرا ہاتھ مفلوج ہو جائے’، تو وہ مفلوج ہو گیا!”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “یہ جاہلیت کے دور میں باپ کی دعا کا اثر تھا، تو اسلام میں کیسا ہوگا؟!”
اور کتاب ‘أزهار الرياض’ میں قاضی عیاض سے روایت ہے،
علامہ زمخشری کا ایک پاؤں کٹا ہوا تھا،
جب ان سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: “یہ میری ماں کی بددعا کا نتیجہ ہے!
واقعہ یہ تھا کہ میں بچپن میں ایک چڑیا پکڑی اور اس کی ٹانگ میں دھاگا باندھ دیا، پھر میں نے اسے کھینچا تو اس کی ٹانگ ٹوٹ کر الگ ہو گئی۔
میرا یہ فعل دیکھ کر میری ماں کو بہت تکلیف ہوئی اور انہوں نے کہا: ‘اللہ تیری ٹانگ بھی اسی طرح کاٹ دے جیسے تو نے اس کی ٹانگ کاٹی ہے!’
جب میں بڑا ہوا اور علم کی طلب میں بخارا کے سفر پر نکلا،
تو میں سواری سے گر پڑا، میری ٹانگ ٹوٹ گئی اور اسے کاٹنا پڑ گیا۔”
اپنی زبان کو قابو میں رکھ، اللہ تجھ پر رحم فرمائے،
سچ یہ ہے کہ اولاد تھکا دینے والی ہوتی ہے،
لیکن اس تمام تھکن اور مشقت کا اجر تربیت میں ہے!
اور بچے اکثر غصہ دلانے والی حرکتیں کرتے ہیں، یہ ایک حقیقت ہے،
لیکن صبر کرنا جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے!
اگر بچوں کے حق میں کی گئی بری دعا قبول ہو جائے،
تو سب سے پہلے تو ہی اس کی آگ میں جلے گی!
اگر تو اپنے بیٹے یا بیٹی کے لیے عدم توفیق اور ناکامی کی دعا کرے گی،
تو یہی بیٹا اور یہی بیٹی آگے چل کر تیرے نالائق اور نافرمان بنیں گے،
تو غصے کے ایک لمحے میں اپنے آپ کو ان کی نیکی اور بھلائی سے محروم کر بیٹھے گی،
اور ان کی ناکامی تیری اپنی بدبختی بن جائے گی!
اگر تیرے بچے ہی بدبخت ہو جائیں تو تجھے کہاں کا سکون ملے گا؟
اپنے آپ کو ان کے حق میں خیر کی دعا کا عادی بنا،
ان تباہ کن بددعاؤں کو خوبصورت اور میٹھی دعاؤں سے بدل دے!
بیٹے سے کہہ: “اللہ تجھے ہدایت دے!”
بیٹی سے کہہ: “اللہ تیری اصلاح کرے!”
اور تو ہی وہ پہلی شخص ہوگی جو ان کی ہدایت اور اصلاح کے پھل سمیٹے گی!
اے صحابیہ!
نماز تاریخ کے فجر سے ہی صالحین کی پناہ گاہ رہی ہے،
جب جریج پر زنا کی یہ تہمت لگی،
تو اس نے کہا: “مجھے چھوڑو تاکہ میں نماز پڑھ لوں!”
اللہ سبحانہ و تعالی نے اسے نجات دی اور اس تہمت سے پاک کر دیا جو اس پر لگائی گئی تھی۔
اللہ کو ہی اپنا امن اور اپنا مضبوط قلعہ بنا،
جب تدبیریں تنگ پڑ جائیں تو صدقہ کر،
جب تیرے سامنے دروازے بند ہو جائیں تو دعا میں جلدی کر،
اور جب معاملات دشوار ہو جائیں تو نماز کے غار میں پناہ لے!
حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے ان کی تسبیح اور استغفار کے علاوہ کسی چیز نے نجات نہیں دی،
اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون اور اس کے لشکر سے اللہ پر حسنِ ظن (اچھے گمان) کے علاوہ کسی چیز نے نجات نہیں دی!
حضرت نوح علیہ السلام کو لکڑی سے بنی کشتی نے نجات نہیں دی،
بلکہ اس لیے نجات ملی کیونکہ وہ توحید کی کشتی پر سوار ہوئے تھے!
اور نبی کریم ﷺ اور ان کے ساتھی کو ہجرت کے دن غار میں توکل اور اللہ پر یقین نے نجات دی!
(جب آپ ﷺ نے فرمایا تھا): “اے ابو بکر! ان دو کے بارے میں تیرا کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ ہو!”
اے صحابیہ!
گناہوں والے بیمار دلوں کے مالک ہوتے ہیں، پس ان سے ہشیار رہ!
وہ چاہتے ہیں کہ کاش تمام لوگ ان جیسے ہی ہو جائیں،
اس زانیہ عورت کو جریج کی پاکدامنی نے بے چین کر دیا تھا،
چنانچہ اس نے چاہا کہ وہ بھی اس جیسا (گنہگار) ہو جائے!
تو اپنی صلاح، تقویٰ اور پاکدامنی سے ناقص لوگوں کو ان کی کمی یاد دلاتی ہے،
رشوت خور کو امانت دار انسان تکلیف دیتا ہے کیونکہ وہ اسے دکھاتا ہے کہ وہ کتنا گرا ہوا ہے!
اور زانیہ کو پاک دامن عورت تکلیف دیتی ہے کیونکہ وہ اسے بتاتی ہے کہ وہ کتنی سستی اور ذلیل ہے!
اور اس سے پہلے قومِ لوط نے کہا تھا: “لوط کے گھر والوں کو اپنی بستی سے نکال دو، یہ بڑے پاک باز بنتے ہیں!”
پلیت اور آلودہ ذہنیت والے کو دوسرے کی پاکیزگی سے گھٹن ہوتی ہے!
اے صحابیہ!
اپنے کان ان لوگوں کی باتوں کی طرف مت لگا جو لوگوں کی عزتوں پر حملے کرتے ہیں،
انہوں نے جریج پر زنا کی تہمت لگائی حالانکہ وہ پاک دامن اور عفیف تھا،
اور اس کی قوم نے اس تہمت کا سچ مان لیا حالانکہ وہ ایک بدکار عورت کی طرف سے آئی تھی جسے اجرت پر لایا گیا تھا!
کتنی ہی پاک دامن عورتیں ہیں جن پر ظلم ہوا،
اور کتنے ہی امانت دار ہیں جن پر خیانت کا الزام لگا،
اور کتنے ہی متہم ایسے ہیں جو اس الزام سے ایسے ہی بَری ہیں جیسے یوسف علیہ السلام کے خونِ ناحق سے بھیڑیا بَری تھا!
لہذا جب تیرے کانوں تک کوئی تہمت پہنچے،
تو اسے اپنے پاس ہی روک لے اور آگے نہ پھیلا!
اگر وہ تہمت سچی بھی ہوئی تو تو بے حیائی پھیلانے میں ابلیس کی کارندہ بن جائے گی،
اور اگر وہ جھوٹی ہوئی تو تو لوگوں کی عزتوں پر حملہ کرنے والی بن جائے گی!
جس نے پردہ پوشی کی اس کا پردہ رکھا جاتا ہے، اور انسان وہی پاتا ہے جو وہ دیتا ہے!
اور جو لوگوں کے عیب تلاش کرتا ہے، اللہ اس کے عیب ظاہر کر دیتا ہے!
حضرت مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا پر زنا کی تہمت لگائی گئی،
اللہ سے کلام کرنے والے موسیٰ علیہ السلام پر الزام لگایا گیا کہ وہ زمین میں فساد پھیلانا چاہتے ہیں!
اور نبی کریم ﷺ پر جھوٹ، جادو اور مجنون ہونے کا الزام لگایا گیا!
پس جب یہ جلیل القدر ہستیاں بھی لوگوں کی باتوں سے نہ بچ سکیں،
تو وہ لوگ کیسے بچ سکتے ہیں جو ان سے بہت نیچے ہیں، اور ہم تو ان کے سامنے کچھ بھی نہیں!


