dikhawy ki zindagi

Dikhawy ki Zindagi / Ant e Aizan Sahabiyah 14

انتِ ایضا صحابیہ 14/ دکھاوے کی زندگی

انت ایصا صحابیہ (14)
مترجم: علامہ سعید احمد اشرفی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیارت!
تم بھی ایک صحابیہ ہو!
تم ہر دور اور ہر شہر کے نیک لوگوں سے محبت کرتی ہو، تم ان تمام لوگوں سے محبت رکھتی ہو جو تم سے پہلے پچھلی امتوں میں توحید کے قافلے میں شامل ہو چکے، اور ان سے بھی محبت کرتی ہو جو توحید پر قائم ہوں گے اور ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے!
تمہارا رب تمہارا محبوب ہے، اور تمہارے نبی ﷺ کا یہ فرمان ہے کہ اسلام تاریخ کی مٹی میں گہری جڑیں رکھنے والی ایک دعوت ہے!
اور اس دین سے تمہاری وابستگی محض تمہاری پیدائش (فطرت) سے شروع نہیں ہوئی، بلکہ یہ حق و باطل کی اس پہلی کشمکش سے جاری ہے جب ملعون ابلیس نے تمہارے باپ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا!
اور یہ وابستگی تمہاری موت پر بھی ختم نہیں ہوگی۔ تم تو اس عقیدے کی بیٹی ہو جس کی ذمہ داری اور تکلیف صرف اس وقت ساقط ہوگی جب اسرافیل علیہ السلام صور میں پھونک ماریں گے۔
اور اس لیے کہ تم نے نبی کریم ﷺ کو ایک مرتبہ فرماتے ہوئے سنا:

“کاش! میں اپنے بھائیوں کو دیکھ پاتا۔”
صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: “بلکہ تم میرے صحابہ ہو، اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک (دنیا میں) نہیں آئے، اور میں حوضِ کوثر پر ان کا پیش رو (ساقی) ہوں گا۔”
صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو کیسے پہچانیں گے جو آپ کے بعد آئیں گے؟
آپ ﷺ نے فرمایا: “تمہارا کیا خیال ہے، اگر کسی شخص کے پاس سفید پیشانی اور سفید سموں والے گھوڑے ہوں جو بالکل سیاہ گھوڑوں کے درمیان ہوں، تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو نہیں پہچان لے گا؟”

صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!
آپ ﷺ نے فرمایا: “پس وہ قیامت کے دن اس حال میں آئیں گے کہ وضو کے اثرات کی وجہ سے ان کے چہرے اور ہاتھ اور پاؤں چمک رہے ہوں گے۔”

اے صحابیہ!
تمہارا دل چاہتا ہے کہ زمانہ نبوت کے صالحین و نیک لوگوں کی خبریں سنے، اور آج تم اس خبر کے ساتھ ہو، پس اپنے دل کو حاضر کرو!
امام احمد بن حنبلؒ، امام شافعیؒ کے شاگرد تھے۔ اور امام احمد اپنے گھر والوں کے سامنے امام شافعی کا بہت ذکر کرتے اور ان کی تعریف و توصیف کیا کرتے تھے۔
ایک دن امام شافعیؒ اپنے شاگرد امام احمد کے گھر مہمان آئے۔ مہمان نے کھانا کھایا اور اپنے بستر پر تشریف لے گئے۔
پھر جب رات کا کچھ حصہ گزر گیا تو امام احمد نے گھر والوں کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی اور پھر اپنے بستر پر لوٹ آئے۔
صبح کے وقت امام احمد کی بیٹی نے اپنے والد سے کہا:
— اے ابا جان! کیا یہی وہ امام شافعی ہیں جن کا آپ مجھ سے ذکر کیا کرتے تھے؟
— انہوں نے فرمایا: ہاں بیٹی!
— اس نے کہا: میں نے آپ کو ان کی عظمت کا بیان کرتے سنا تھا، لیکن میں نے ان کو اس رات نہ کوئی نفل نماز پڑھتے دیکھا، نہ ذکر و اذکار کرتے، اور نہ ہی وِرد کرتے! اور میں نے ان کے بارے میں تین باتیں محسوس کیں!
— انہوں نے پوچھا: وہ کیا باتیں ہیں بیٹی؟
— اس نے کہا: جب ہم نے ان کے سامنے کھانا پیش کیا تو انہوں نے آپ کی بتائی ہوئی باتوں کے برعکس بہت زیادہ کھانا کھایا۔ وہ رات کو نماز پڑھنے کے لیے بھی نہیں اٹھے! اور جب انہوں نے ہمارے ساتھ فجر کی نماز پڑھی تو وضو بھی نہیں کیا!
چنانچہ امام احمد نے امام شافعیؒ کو اس بات سے آگاہ کیا جو ان کی بیٹی نے کہی تھی۔
امام شافعیؒ نے امام احمد سے فرمایا:

dars e quran 2

“اے احمد! میں نے بہت زیادہ کھانا اس لیے کھایا کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ تمہارا کھانا حلال ہے، اور حلال کھانا دوا ہوتا ہے جبکہ بیماری (کا علاج) دوا سے ہے۔ میں نے تمہارا کھانا پیٹ بھرنے کے لیے نہیں بلکہ شفاء حاصل کرنے کے لیے کھایا!
رہ گئی یہ بات کہ میں رات کی نماز کے لیے نہیں اٹھا، تو جب میں نے اپنا سر بستر پر رکھا تو میرے سامنے قرآن و سنت کے علوم آ گئے، پس اللہ نے مجھ پر فقہ کے ۱۷۲ مسائل کھول دیے۔ میں مسلمان امت کی بہتری و مصالح میں غور و فکر کرتا رہا اور اسی فکر نے میرے اور قیام اللیل کے درمیان حائل ہو کر وقت گزار دیا۔
اور رہی یہ بات کہ میں نے بغیر (نئے) وضو کے تمہاری امامت کی، تو اللہ کی قسم! میری آنکھیں سوئی ہی نہیں کہ مجھے نیا وضو کرنا پڑتا، لہٰذا میں نے عشاء کے وضو سے ہی تمہاری فجر کی نماز پڑھائی!”

پھر امام شافعیؒ رخصت ہو کر چلے گئے۔
تب امام احمد نے اپنی بیٹی سے فرمایا: “امام شافعی کا لیٹے لیٹے یہ کام کرنا، میرے قائم اللیل (رات بھر عبادت کرنے) سے کہیں زیادہ افضل ہے!”
اے صحابیہ!
تم بلندیوں اور اعلیٰ مقاصد کے لیے پیدا کی گئی ہو، لہٰذا فضول اور معمولی باتوں کو چھوڑ دو! امام احمد کی بیٹی نے تمہیں زندگی کا ایک بہت بلیغ و گہرا سبق سکھایا ہے:
ظاہر کو دیکھنے کے بجائے جوہر اور حقیقت پر نظر رکھو!
انہوں نے امام شافعی کے عمامے (پگڑی) کے بارے میں بات نہیں کی، نہ اس پر توجہ دی کہ ان کے کپڑوں کا رنگ مناسب تھا یا نہیں، اور نہ ہی ان کی داڑھی یا ان کی انگوٹھی پر غور کیا۔
وہ تو صرف ان کے دین اور ان کی عبادت کا مشاہدہ کر رہی تھیں!
لہٰذا سوشل میڈیا کے مشاہیر (سیلیبریٹیز) کی بے ہودگیوں اور لغویات کو چھوڑ دو۔ تمہیں اس “فیشن آئیکن” کے کپڑے اور فیشن دیکھنے سے کیا فائدہ ہوگا؟ یا اس گلوکار کے دن بھر کے کاموں کی پیروی سے تمہیں کیا حاصل ہوگا؟
تم دوسروں کی زندگیوں میں جینے کے لیے پیدا نہیں ہوئیں، بلکہ تمہیں اپنی زندگی جینی ہے!
.سوشل میڈیا پر بہت سا علم اور بے شمار فائدے بھی موجود ہیں:

  • فقہ، حدیث اور تفسیر کے دروس!
  • مفید اور نافع دستاویزی فلمیں (ڈاکیومنٹریز)!
  • مختلف علوم میں ایسے لیکچرز جو علم کو تمہاری گود میں لا رکھتے ہیں!
    • بھلائی کے کام اور امدادی سرگرمیاں جنہوں نے بے شمار لوگوں کی زندگیوں کو بہترین سانچے میں ڈھال دیا!
      پس زندگی میں تمہارا طریقہ کار شہد کی مکھی جیسا ہونا چاہیے، عام مکھیوں جیسا نہیں! شہد کی مکھی صرف پھولوں پر بیٹھتی ہے، جبکہ عام مکھی صرف گندگی پر ہی بیٹھتی ہے!
      ان چیزوں کو تلاش کرو جو تمہارے دل کو نرم کریں، اور ان باتوں کو ڈھونڈو جو تمہاری عقل کو روشن کریں، کیونکہ تمہاری عقل ہی تمہارا ہتھیار ہے!
      اے صحابیہ!
      میں تم سے یہ نہیں کہہ رہا کہ تم فیشن سے ناواقف ہو جاؤ، اور نہ ہی یہ کہہ رہا ہوں کہ تم خوبصورتی اور آرائش کو چھوڑ دو!
      بلکہ میں تم سے یہ کہہ رہا ہوں: علم و معرفت ایک الگ چیز ہے اور کسی چیز کا جنون و ہوس ایک الگ چیز! اور میں تم سے یہ بھی نہیں کہتا کہ تم دنیا سے الگ تھلگ دنیا میں رہو، بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ مادیت پرستی روح کو فاسد کر دیتی ہے، اور کچھ لوگوں کی زندگی کی جزئیات پر مسلسل نظر رکھنا تمہاری اپنی زندگی کو تباہ کر سکتا ہے!
      کیونکہ یہ دیکھنا تمہیں اللہ کی اس تقسیم اور تقدیر سے غیر مطمئن اور ناراض کر دے گا جو اس نے تمہارے لیے مقرر کی ہے۔
      ان لوگوں کا کوئی موضوعِ گفتگو نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ انہوں نے کیا خریدا یا کیا بیچا، یا انہوں نے کیا کھایا اور وہ کہاں کی سیر کو گئے!
      ان کی زندگیاں ایسی فلمیں ہیں جو تمہیں ایک مثالی زندگی کی صورت میں دکھائی جاتی ہیں، اور تم نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی زندگی کو حقیر سمجھنے لگتی ہو۔
      تم کمتری اور احساسِ محرومی محسوس کرنے لگتی ہو کیونکہ تمہارے پاس فلاں عورت جیسا ہینڈ بیگ یا زیورات نہیں ہیں، اور تم تنگی محسوس کرتی ہو کیونکہ تمہارے پاس فلاں شخص کی طرح سفر اور تفریحی دورے نہیں ہیں!
      ہم جب دوسروں کے ہاتھوں میں موجود چیزوں پر نظر ڈالتے ہیں تو اپنے ہاتھوں میں موجود نعمتوں کو حقیر جاننے لگتے ہیں، اور ہمارے اندر احساسِ کمتری اور نقص کا بیج اگنے لگتا ہے!
      پھر تم سے کس نے کہا کہ ان لوگوں کی زندگیاں مثالی ہیں؟
      یہ لوگ تمہیں اپنی زندگی سے صرف وہی دکھاتے ہیں جو وہ دکھانا چاہتے ہیں!
      طلاق کی سب سے زیادہ شرح تمہیں انہی کے ہاں ملے گی!
      مال و دولت پر سب سے زیادہ جھگڑے اور مسائل انہی کے درمیان ہوتے ہیں!
      جب فلاں عورت ایک چمکتی دمکتی زندگی کی نمائش کر رہی ہوتی ہے، تو (حقیقت میں) اس کا گھر بے توجہی کا شکار ہوتا ہے اور اس کا خاندان برباد ہو رہا ہوتا ہے!
      اور جب فلاں شخص تمہیں یہ سکھا رہا ہوتا ہے کہ تم نے کیسے کھانا ہے اور کیا خریدنا ہے، تو اس کا اپنا گھر غفلت اور ابتری سے بھرا ہوتا ہے!
      ظاہری نمائش کی اس زندگی کی سب سے بری بات یہ ہے کہ یہ ہمارے اندر کی انسانیت کو قتل کر دیتی ہے! اور ہمیں اس عظیم مقصد سے غافل کر دیتی ہے جس کے لیے ہمیں پیدا کیا گیا ہے، اور اس سخت امتحان کو بھلا دیتی ہے جسے پار کرنا ہم پر فرض ہے!

1 thought on “Dikhawy ki Zindagi / Ant e Aizan Sahabiyah 14”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *