ata sy behtar mehroomi

Ata sy Behtar Mehroomi/عطاء سے بہتر محرومی

Ata sy Behtar Mehroomi (Ant e Aizan Sahabiyah 15)

مترجم:علامہ سعید احمد اشرفی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنانا!
تم بھی تو ایک صحابیہ ہو!
تم ابھی پہلوں کے قصوں سے سیراب نہیں ہوئیں،
ہر کہانی کے ساتھ ان کی خبریں جاننے کی تمہاری پیاس بڑھتی ہی جاتی ہے،
اور وحی سے تائید یافتہ ہستی کے سوا اور کون تمہیں بتا سکتا ہے کہ حقیقت میں کیا ہوا تھا؟!
اور آج تم ایک نئی خبر اور ایک دلچسپ کہانی کے ساتھ ہو،
اور یہ رہے تمہارے نبی اور تمہارے حبیب ﷺ جو تمہیں ایک قصے کے دوش پر،
گزشتہ زمانے کی سیر کروا رہے ہیں!
وہ اپنی میٹھی آواز میں تم سے فرما رہے ہیں:
بنی اسرائیل کی ایک عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی،
اس کے پاس سے ایک شاندار سوار کا گزر ہوا،
تو اس نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس جیسا بنا دے!
بچے نے ماں کی چھاتی چھوڑ دی اور اس سوار کی طرف دیکھ کر کہا: اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنانا!
پھر وہ دوبارہ چھاتی کی طرف متوجہ ہوا اور دودھ پینے لگا،
اور نبی ﷺ نے اپنی انگلی چوس کر دکھائی تاکہ تم اس واقعے کو ایسے محسوس کرو،
جیسے وہ بالکل تمہارے سامنے ہو رہا ہے!
پھر ایک لونڈی کے پاس سے گزر ہوا جسے مارا جا رہا تھا،
تو عورت نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس جیسا نہ بنانا!
بچے نے چھاتی چھوڑ دی اور کہا: اے اللہ! مجھے اس جیسا بنا دے!
عورت نے پوچھا: ایسا کیوں؟
بچے نے جواب دیا: وہ سوار جابروں میں سے ایک جابر انسان تھا،
اور یہ لونڈی، جس کے بارے میں لوگ کہہ رہے ہیں کہ تو نے چوری کی، تو نے زنا کیا، حالانکہ اس نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا!
اے صحابیہ!
وہ قصے جو وحی کے ذریعے قرآن یا سنت کی صورت میں آئے،
وہ محض لطف اندوزی اور تفریح کے لیے نہیں ہیں، اگرچہ وہ دلچسپ اور مسحور کن ہیں،
بلکہ ان کا مقصد اولاً ان کے سچ ہونے کی تصدیق کرنا ہے،
اور ثانیاً ان سے نصیحت، عبرت اور ان پر عمل کرنا ہے!
بے شک ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا اور وہ حقیقت میں نہیں جلے!
اور موسیٰ علیہ السلام نے واقعی اپنے عصا سے سمندر کو پھاڑ دیا!
اور یونس علیہ السلام یقینی طور پر مچھلی کے پیٹ میں رہے!
اور سلیمان علیہ السلام نے درحقیقت جنوں، انسانوں اور پرندوں پر حکومت کی!
اور نوح علیہ السلام نے سچ مچ پہاڑوں جیسی موجوں میں کشتی کا سفر کیا!
اور چھری نے واقعی اسماعیل علیہ السلام کو نہیں کاٹا!
اور نبوی قصے بھی قرآنی قصوں کی طرح ایسی وحی ہیں جس میں کوئی شک نہیں،
یہ ابو زید ہلالی کے مبالغے نہیں ہیں،
نہ گلگامش کی بکواس اور اس کی آبِ حیات کی تلاش،
نہ یونانی ایلیڈ یا فارسی شاہنامہ کی خرافات ہیں،
اور جب تمہارے نبی ﷺ تمہیں عجیب و غریب احادیث سنائیں،
تو یقین رکھو کہ یہ حقیقت میں رونما ہوا ہے، اور اس پر ایمان لانا واجب ہے!
اور اس قصے میں شیر خوار بچے نے واقعی پنگھوڑے میں بات کی تھی!
بالکل اسی طرح جیسے عیسیٰ علیہ السلام نے اس دن بات کی تھی جب ان کی والدہ انہیں اٹھا کر لائی تھیں!
ہم نماز اور روزے سے پہلے غیب پر ایمان لانے والی امت ہیں!
ہم جنت، دوزخ،
پل صراط، فرشتوں اور جنوں،
اور انبیاء کے معجزات پر ایمان رکھتے ہیں۔
اور یہ سب غیب ہے جسے ہم نے نہیں دیکھا،
اور اگر ہم اس پر ایمان نہ لائیں تو اس کے بعد نہ کوئی نماز درست ہے اور نہ کوئی روزہ!
اے صحابیہ!
ظاہری شکل و صورت سے دھوکہ نہ کھانا، خدا کی قسم یہ دھوکہ باز ہوتی ہے!
اور چیزوں کا فیصلہ صرف ان کے ظاہر سے نہ کرنا کیونکہ یہ ناسمجھی کی علامت ہے!
اگر تم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں مدینے کی گلیوں میں چلتیں،
اور انہیں سادہ کپڑوں میں دیکھتیں اور بچے ان کے پیچھے بھاگتے ہوئے انہیں پکار رہے ہوتے: اے ابا جان!
تو تم کہتیں کہ یہ کیسا سادہ سا آدمی ہے،
حالانکہ وہ انبیاء کے بعد انسانوں میں سب سے بہترین شخص ہیں!
رسول اللہ ﷺ کے ساتھی، اور غار میں ان کے رفیق،
مرتدین کی سرکوبی کرنے والے، اور لا إله إلا الله کا دفاع کرنے والے!
اور اگر تم عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مدینے کی گلیوں میں چلتیں،
اور انہیں پیوند لگے کپڑوں میں چلتے دیکھتیں،
تو تم کہتیں: بیچارہ، اسے پہننے کے لیے کوئی اچھا کپڑا نہیں ملتا،
حالانکہ یہ وہ ہستی ہیں جن سے شیطان بھی بھاگتا ہے،
اس امت کے فاروق، اور بڑی بڑی سلطنتوں کو شکست دینے والے،
وہ شخص جس نے انصاف قائم کیا، اور شریعت کو نافذ کیا!
اور اگر تم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو درخت پر چڑھتے دیکھتیں،
تو تم ان کی پنڈلیوں کے پتلے پن اور کمزوری پر ہنستیں جیسا کہ صحابہ ہنسے تھے،
لیکن نبی ﷺ نے انہیں بتایا،
کہ یہ دو پنڈلیاں قیامت کے دن میزان میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہوں گی!
اور اگر تم مسجد نبوی میں داخل ہوتیں،
اور تم حذیفہ بن الیمان اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کو اصحابِ صفہ میں دیکھتیں،
اور صفہ مسجد میں ان غریبوں کی جگہ تھی جنہیں کھانا میسر نہیں ہوتا تھا!
تو تم کہتیں: ہائے بیچارے!
حالانکہ یہ حذیفہ بن الیمان ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے راز دان تھے!
اور ابوہریرہ ہیں جو صحابہ میں سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے والے ہیں!
اے صحابیہ!
ہر مشہور شخص ایسا نہیں ہوتا کہ اس کی حالت پر رشک کیا جائے،
کچھ لوگ اپنی شہرت اور دولت کے باوجود ترس کے قابل ہوتے ہیں!
ابوجہل بھی اکڑتا پھرتا تھا، شور مچاتا اور گرجتا تھا،
اور رسوائی کے ساتھ اس امت کے فرعون کا تمغہ پا گیا!
اور نہ ہی ہر گمنام شخص ایسا ہوتا ہے کہ اسے حقیر سمجھا جائے!
کچھ لوگ اپنی گمنامی کے باوجود ایسے ہوتے ہیں کہ کاش ہم ان جیسے ہوتے،
براء بن مالک پراگندہ حال، خاک آلود اور دو پرانے کپڑوں والے تھے،
جنہیں دروازوں سے دھتکار دیا جاتا، کوئی ان کی پرواہ نہ کرتا،
لیکن اگر وہ اللہ پر قسم کھا لیتے تو اللہ اسے ضرور پوری کر دیتا!
شہرت ایک فتنہ ہے سوائے اس کے جو اللہ کے لیے ہو،
اور مال ایک فتنہ ہے سوائے اس کے جو اللہ کی راہ میں خرچ ہو،
اور علم ایک فتنہ ہے سوائے اس کے جو اللہ کی راہ میں ہدایت کا باعث بنے،
تو تم اپنی نگاہیں اس دنیا کی طرف نہ دوڑاؤ جو دوسروں کو دی گئی ہے!
جو بالآخر ایک فانی متاع اور مؤخر کیا گیا عذاب ہے،
اس قصے کا سوار بظاہر تو بڑا رعب دار تھا!
لیکن حقیقت میں وہ ایک ظالم اور جابر شخص تھا،
اور وہ لونڈی بظاہر ایک ملزمہ اور بیچاری تھی،
لیکن حقیقت میں وہ بے گناہ اور اللہ کی پیاری تھی،
پس تم آخرت کی بیٹی بن جاؤ!
اے صحابیہ!
ہم اللہ سے کچھ چیزیں مانگتے ہیں مگر وہ ہمیں نہیں دیتا،
یہ اس لیے کہ وہ جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے!
جب اللہ ہمیں کوئی نعمت دینے سے روکتا ہے تو یہ ہم پر اس کی رحمت ہوتی ہے،
ہم سب نے کبھی نہ کبھی شدت سے کچھ چیزوں کی تمنا کی، اور سوچا کہ ان کے بغیر ہماری زندگی جہنم بن جائے گی،
پھر ہم نے دعائیں کیں، اللہ سے مانگا، مگر اس نے قبول نہ کی!
پھر دن گزرے تو ہم پر کھلا کہ جہنم تو اس میں تھی اگر ہم اسے پا لیتے!
ہم انسانوں کی نظر محدود اور سوچ ناقص ہے،
اور ہم پورے منظر کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ دیکھتے ہیں اور اسے ہی مکمل منظر سمجھ بیٹھتے ہیں!
اور اگر تم اس کشتی کے مسافروں میں سے ہوتیں جسے خضر علیہ السلام نے سوراخ کر دیا تھا،
تو شاید تم کہتیں: کیا یہ کافی نہیں تھا کہ ہم غریب ہیں کہ اب ہمارے رزق کا ذریعہ بھی تباہ ہو گیا؟
پھر غیب کے پردے اٹھتے ہیں اور تم پر ظاہر ہوتا ہے،
کہ اگر یہ سوراخ نہ ہوتا تو پوری کشتی ڈوب جاتی!
اور اگر تم اس بچے کی ماں ہوتیں جسے خضر علیہ السلام نے قتل کر دیا تھا،
تو شاید تم کہتیں: اے رب! ایک چھوٹے سے بچے کا کیا قصور کہ اسے مار دیا جائے؟
پھر پردے ہٹتے ہیں، حقیقت سامنے آتی ہے، اور تم پر واضح ہوتا ہے،
کہ اگر وہ نہ مرتا تو تمہارا دین تم سے چھین لیتا!
تو پاک ہے وہ ذات جو کبھی کبھی ہماری دنیا کو اس لیے مکدر کر دیتی ہے،
تاکہ ہمارا دین محفوظ رہے، جو اگر خراب ہو گیا تو اس کے بعد ساری دنیا بھی ہمارے کسی کام نہ آئے گی!
اے صحابیہ!
اللہ کے روک لینے (نہ دینے) کو بھی ایک عطا سمجھ کر دیکھو تو تمہارے دل کو سکون ملے گا،
بے شک اللہ تعالیٰ ہماری ان طریقوں سے حفاظت کرتا ہے جنہیں ہم سمجھ نہیں پاتے،
ایک نیک بزرگ فرمایا کرتے تھے:
جب میں اللہ سے کوئی چیز مانگتا ہوں اور اس سے محروم رہ جاتا ہوں،
تو میری اس محرومی پر خوشی میری عطا ملنے کی خوشی سے زیادہ ہوتی ہے،
کیونکہ عطا تو میرا اپنے لیے انتخاب تھا،
جبکہ محرومی میرے لیے اللہ کا انتخاب ہے!
پس تم اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھاؤ اور اپنے رب سے جو چاہو مانگو!
کیونکہ وہ پسند کرتا ہے کہ اپنے بندے کو دعا کرتے ہوئے سنے،
اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا:
اے موسیٰ! مجھ سے اپنے جانور کا چارہ، اپنے جوتے کا تسمہ اور اپنے آٹے کا نمک بھی مانگو!
پس اگر تمہاری دعا قبول ہو جائے، تو ایک بار اللہ کا شکر ادا کرو،
اور اگر روک لی جائے تو دو بار اللہ کا شکر ادا کرو!
کیونکہ ساری کی ساری بھلائی اسی میں تھی کہ تمہیں روک دیا گیا!
اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
اگر غیب کے پردے اٹھا دیے جائیں تو کوئی انسان ایسی تقدیر کا انتخاب نہ کرے گا،
سوائے اس کے جو اللہ نے اس کے لیے چن لی ہے!
پس اللہ کے ساتھ ہمیشہ حسن ظن رکھو!

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *