قرآن مجید پریشانی اور بے چینی کے بارے میں کیا رہنمائی دیتا ہے؟
انسانی زندگی خوشی اور غم، آسانی اور سختی کا مجموعہ ہے، اور موجودہ دور میں ذہنی دباؤ (Stress)، پریشانی (Anxiety) اور افسردگی (Depression) عالمی سطح پر سنگین ترین مسائل بن چکے ہیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات کی حیثیت سے انسان کی صرف جسمانی اور روحانی نہیں، بلکہ ذہنی اور نفسیاتی صحت کی بھی مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآنی تعلیمات اور احادیثِ نبویﷺ کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ اسلام ذہنی دباؤ کو انسان کا ذاتی نقص یا گناہ تصور کرنے کے بجائے اسے انسانی فطرت کا ایک حصہ اور ایک دنیوی آزمائش قرار دیتا ہے، جس کا حتمی علاج ایمانی فکر، توکل اور علمی و طبی تدابیر کے امتزاج میں موجود ہے۔
1. پریشانی اور غم کی قرآنی حقیقت: زندگی بطورِ آزمائش
اسلام بنیادی طور پر اس نقطہ نظر کو واضح کرتا ہے کہ یہ دنیا دائمی راحت کی جگہ نہیں بلکہ امتحان گاہ ہے۔ انسان کا مختلف حالات سے گزرنا، معاشی تنگی کا شکار ہونا، بیماری یا اپنوں کی جدائی دیکھنا فطری عمل ہے۔
اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ
“اور ہم ضرور تمہیں خوف، بھوک، مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان سے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔” (سورۃ البقرۃ: 155)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خوف اور ذہنی تذبذب انسان پر وارد ہونے والے فطری امتحانات میں سے ہیں۔ قرآنِ کریم نے انبیاء علیہ السلام کی زندگیوں کے احوال بیان کرتے ہوئے یہ دکھایا کہ اللہ کے سب سے پیارے بندے بھی شدید غم اور ذہنی بوجھ سے گزرے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا اپنے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کی جدائی میں روتے روتے بینائی کھو دینا (غم کا اظھار)، حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ میں اندھیروں کا سامنا کرنا، اور خود نبی کریمﷺ کی زندگی میں “عام الحزن” (غم کا سال) کا آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پریشانی کا آنا انسان کی کمزوری یا اللہ کی ناراضگی کی علامت نہیں ہے۔
2. ذہنی دباؤ کا اجر و ثواب اور کفارہ
احادیثِ مبارکہ میں رسول اللہﷺ نے ذہنی بوجھ، تشویش اور غم کو مؤمن کے لیے گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
صحیح بخاری اور مسلم کی متفق علیہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
“مسلمان کو جو بھی تھکاوٹ، بیماری، فکر، غم، تکلیف یا پریشانی پہنچتی ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، تو اللہ تعالی اس کے بدلے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔”
یہ نبوی تصور انسان کے ذہن سے اس اضافی بوجھ کو ختم کر دیتا ہے کہ “میں ہی کیوں اس تکلیف میں ہوں؟” جب انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی ہر ذہنی بے چینی بھی اللہ کے ہاں ضائع نہیں ہو رہی، تو اس کی اندرونی قوتِ برداشت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
3. ذہنی دباؤ اور پریشانی کے قرآنی و نبوی علاج
اسلام انسان کو صرف صبر کی تلقین پر نہیں چھوڑتا بلکہ ذہنی سکون بحال کرنے کے لیے متعدد عملی، فکری اور روحانی حل پیش کرتا ہے۔
الف: ذکرِ الٰہی سے قلبی اطمینان
ذہن جب وسوسوں اور منفی خیالات سے بھر جاتا ہے تو اسے ایک مضبوط سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن پاک کے مطابق اللہ کی یاد ہی وہ واحد مرکز ہے جو مضطرب دلوں کو قرار دیتا ہے۔
أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
“خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔” (سورۃ الرعد: 28)
نماز، تلاوتِ قرآن اور مسنون اذکار انسان کے ذہن کو مثبت سمت میں موڑتے ہیں اور اسے وقتی پریشانیوں سے نکال کر ایک ابدی اور بڑی حقیقت سے جوڑ دیتے ہیں۔
ب: توکل اور رضا بالقضاء (تقدیر پر ایمان)
ذہنی دباؤ کا ایک بڑا سبب مستقبل کا خوف اور ماضی کا پچھتاوا ہوتا ہے۔ اسلام “توکل” کے ذریعے انسان کو یہ فکر دیتا ہے کہ تمام امور کا حقیقی مالک اللہ تعالی ہے، اور جو کچھ ہوتا ہے اس کی حکمت اور مشیئت کے تحت ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ
“اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔” (سورۃ الطلاق: 3)
جب انسان یہ سوچ لیتا ہے کہ اس کے اختیار سے باہر کی تمام چیزیں ایک انتہائی رحم کرنے والے رب کے ہاتھ میں ہیں، تو اس کا ذہنی دباؤ خود بخود کم ہونے لگتا ہے۔
ج: دعا اور استغفار کی طاقت
رسول اللہﷺ نے پریشانی کے اوقات میں دعا کو مؤمن کا سب سے بڑا ہتھیار قرار دیا۔ آپﷺ خود مسلسل ذہنی دباؤ اور غم سے پناہ مانگا کرتے تھے۔
آپﷺ کی ایک مشہور مسنون دعا ہے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ
“اے اللہ! میں فکر و غم، اور عاجزی و سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔”
اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
“جو شخص استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لے، اللہ تعالی اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور ہر غم سے اسے نجات عطا فرماتا ہے۔” (سنن ابوداؤد)
د: مثبت سوچ (تفاؤل) اور امید
اسلام مایوسی (Hopelessness) کی سخت مذمت کرتا ہے۔ مایوسی کا تعلق ایمان کی کمزوری سے جوڑا گیا ہے:
وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ
“اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، یقیناً اللہ کی رحمت سے کافر قوم کے سوا کوئی مایوس نہیں ہوتا۔” (سورۃ یوسف: 87)
نبی کریمﷺ حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، ہمیشہ “تفاؤل” (بہتری کی امید اور مثبت فال) کو پسند فرماتے تھے۔ قرآن میں اللہ تعالی انسان کو یقین دلاتا ہے کہ سختی کے بعد آسانی لازمی ہے:
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا • إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
“پس یقیناً دشواری کے ساتھ آسانی ہے، بے شک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔” (سورۃ الشرح: 5-6)
4. نفسیاتی و جسمانی اسباب کا اختیار اور طبی علاج
ایک بہت بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ذہنی دباؤ یا نفسیاتی بیماریوں کا علاج صرف روحانی و ظاہری عبادات میں ہے اور ڈاکٹر کے پاس جانا ایمان کی کمزوری ہے۔ اسلام اس نظریے کی مکمل نفی کرتا ہے۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ شِفاءً
“اے اللہ کے بندو! علاج کروایا کرو، کیونکہ اللہ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا نہ بنائی ہو۔” (سنن ترمذی)
جیسے جسمانی بیماریوں (بخار، شوگر، یا زخم) کے لیے دوا لینا سنت ہے، اسی طرح دماغی اور کیمیائی عدم توازن (Chemical Imbalance) کے لیے نفسیاتی معالج (Psychologist/Psychiatrist) سے رجوع کرنا، کونسلنگ کروانا یا ادویات استعمال کرنا عینِ شریعت اور سنت کے مطابق ہے۔
اسلام انسان کو متوازن زندگی گزارنے کی ہدایت دیتا ہے:
- مناسب نیند اور آرام: قرآن میں رات کو سکون کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔
- جسمانی ورزش و تحرک: جسمانی سستی ذہن کو مزید تاریک کرتی ہے۔
- صحت بخش غذا: طیب اور حلال غذا کا اثر انسان کے مزاج اور نفسیات پر براہِ راست پڑتا ہے۔
5. معاشرتی ذمہ داری: ہمدردی اور سننے کا کلچر
اسلامی معاشرے میں دوسروں کے ذہنی بوجھ کو ہلکا کرنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ کسی پریشان حال انسان کی بات کو ہمدردی سے سننا، اس کا تمسخر نہ اڑانا، اور اسے “کمزور ایماندار” کہہ کر طعنہ نہ دینا اخلاقی فرض ہے۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
“جو شخص کسی مؤمن کی دنیوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا، اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی سخت تکلیفوں میں سے تکلیف دور فرمائے گا۔” (صحیح مسلم)
اسلامی تعلیمات کا حاصل یہ ہے کہ ذہنی دباؤ اور پریشانی انسان کی زندگی کا ایک قدرتی حصہ ہیں۔ ان کا علاج جہاں صبر، دعا، ذکرِ الٰہی، اور اللہ کی ذات پر پختہ توکل میں پوشیدہ ہے، وہاں سائنسی و طبی تدابیر اپنانا اور معاشرتی سطح پر ایک دوسرے کا سہارا بننا بھی اسلام کے جامع نظامِ حیات کا حصہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا علماء سے یا معالج سے اپنی ذہنی پریشانیوں کا حل یا علاج کروانا درست ہے؟
جی ہاں، نفسیاتی معالج (Psychologist یا Psychiatrist) کے پاس جانا، کونسلنگ کروانا اور طبی ضرورت کے تحت ادویات لینا اسلام میں مکمل طور پر جائز اور مستحسن (پسندیدہ) ہے۔ تمام معتبر علمائے کرام، جدید فقہی اکیڈمیز اور دارالافتاء اس بات پر متفق ہیں کہ ذہنی و نفسیاتی مسائل کا سائنسی علاج کروانا عینِ شریعت اور سنتِ نبوی کے مطابق ہے۔
علمائے کرام اور فقہی اداروں کا متفقہ موقف
اسلامی فقہ اکیڈمی (OIC Islamic Fiqh Academy)، جامعہ الازہر، اور دارالعلوم دیوبند سمیت دنیا کے تمام معروف علمی و فقہی اداروں کا موقف درج ذیل نکات پر مبنی ہے:
- جسمانی اور نفسیاتی بیماری میں کوئی فرق نہیں: جس طرح دل، جگر یا گردے کا عارضہ ایک جسمانی بیماری ہے، اسی طرح ڈپریشن، اینگزائٹی (Anxiety)، بیوقوفانہ وسوسے (OCD) یا دیگر نفسیاتی عوارض دماغ میں کیمیائی عدم توازن (Chemical Imbalance) یا اعصابی نظام کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
- علاج کی عام اجازت (اصلِ تداوی): رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
“اے اللہ کے بندو! علاج کروایا کرو، کیونکہ اللہ تعالی نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا نہ بنائی ہو۔” (سنن ترمذی)یہ حدیث عمومی ہے اور اس میں جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور روحی عوارض بھی شامل ہیں۔
عام غلط فہمیوں کا ازالہ اور الشرعی حدود
علماء نے اس بات پر خصوصی زور دیا ہے کہ سماجی یا مذہبی سطح پر پائی جانے والی بعض غلط فہمیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں:
- “ایمان کی کمزوری” کا طعنہ غلط ہے: کسی شخص کا نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہونا اس کے بے ایمان یا اللہ سے دور ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ جلیل القدر انبیاء اور صحابہ کرام شدید غم اور ذہنی بوجھ سے گزرے ہیں۔
- علاج توکل کے خلاف نہیں: ماہر نفسیات کے پاس جانا یا ادویات لینا اللہ پر بھروسہ (توکل) کے منافی نہیں، بلکہ یہ اس باب میں آتا ہے کہ “پہلے اونٹ کو باندھو، پھر توکل کرو”۔
- روحانی علاج اور طبی علاج میں باہمی ربط: نماز، دعا، استغفار اور تلاوتِ قرآن روحانی سکون کا باعث ہیں، لیکن وہ طبی علاج کا نعم البدل نہیں بلکہ اس کے معاون ہیں۔ جیسے بخار میں دعا کے ساتھ پیراسیٹامول لی جاتی ہے، ویسے ہی شدید اینگزائٹی میں ذکر کے ساتھ ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا لینا ضروری ہے۔
نفسیاتی علاج کے لیے علمائے کرام کی اہم ہدایات
- مستند معالج کا انتخاب: ہمیشہ کسی تعلیم یافتہ اور لائسنس یافتہ ماہرِ نفسیات (Psychologist/Psychiatrist) سے رجوع کریں، اور غیر مستند عاملوں یا جعلی معالجین سے پرہیز کریں۔
- ادویات کا باقاعدہ استعمال: اگر Psychiatrist (نفسیاتی ڈاکٹر) ادویات تجویز کرے تو انہیں طبی ہدایات کے مطابق استعمال کرنا شرعاً جائز ہے۔ اگر کسی دوا میں وقتی طور پر غنودگی ہو تو بھی علاج کی نیت سے اس کا استعمال جائز ہے۔
- اخلاقی و ایمانی اقدار کا احترام: ایسے معالج کا انتخاب بہتر ہے جو مریض کے مذہبی و اخلاقی اقدار کی قدر کرتا ہو اور کونسلنگ کے دوران اسلامی تعلیمات کے منافی مشورے نہ دے۔
خلاصہ یہ کہ اسلام انسان کو جسمانی، روحانی اور ذہنی طور پر توانا دیکھنے کا خواش مند ہے۔ نفسیاتی معالج سے مدد لینا بالکل ویسے ہی جائز ہے جیسے کسی بھی دوسرے ماہرِ طب (Medical Specialist) سے رجوع کرنا۔

